Searching...
Thursday, 30 April 2026
22:37

Square Root Find By Sequence Method


Main topic likho Urdu kero Scientists Make Breakthrough in Turning Plastic Trash Into Clean Fuel Using Sunlight Plastic Bottle Sunlight Plastics – rich in carbon and hydrogen – can be converted into a clean energy source, using sunlight. Credit: Adelaide University Scientists are exploring a method to convert plastic waste into fuels and valuable chemicals using sunlight, potentially addressing both pollution and energy challenges. Scientists are developing a potential solution to two major global problems, plastic pollution and clean energy, by using sunlight to turn discarded plastics into useful fuels. A new study led by University of Adelaide PhD candidate Xiao Lu examines how solar-powered systems can convert plastic waste into hydrogen, syngas, and other industrial chemicals. This approach could support the transition to a more sustainable, circular economy. Worldwide, more than 500 million tons of plastic are produced each year, and millions of tons end up in the environment. At the same time, growing pressure to cut fossil fuel use has intensified the search for cleaner energy alternatives. The study, published in Chem Catalysis, shows that plastics, which are rich in carbon and hydrogen, could be treated as a valuable resource rather than simply waste. “Plastic is often seen as a major environmental problem, but it also represents a significant opportunity,” said Ms Lu. “If we can efficiently convert waste plastics into clean fuels using sunlight, we can address pollution and energy challenges at the same time.” How Solar-Driven Photoreforming Works This method, called solar-driven photoreforming, relies on light-sensitive materials known as photocatalysts to break down plastics at relatively low temperatures. The process can generate hydrogen, a clean fuel that produces no emissions at the point of use, along with other useful industrial chemicals. Plastic Waste Garbage Plastic waste is a growing environmental problem as production continues to rise and recycling remains limited. Durable plastics persist for decades, breaking down into microplastics that spread through ecosystems and food systems, posing risks to both environmental and human health. Credit: Stock Compared with conventional hydrogen production through water splitting, this approach requires less energy because plastics are easier to oxidize. That advantage could make it more practical for large-scale use. Recent research has reported strong performance, according to senior author Professor Xiaoguang Duan from the School of Chemical Engineering at the University of Adelaide. Scientists have achieved high hydrogen output along with the production of acetic acid and diesel-range hydrocarbons. Some systems have operated continuously for more than 100 hours, showing improving stability and efficiency. Technical Challenges and Limitations Despite these advances, several obstacles remain before the technology can be widely used. “One major hurdle is the complexity of plastic waste itself,” Prof Duan said. “Different types of plastics behave differently during conversion, and additives such as dyes and stabilizers can interfere with the process. Efficient sorting and pre-treatment are therefore essential to maximize performance and product quality.” Designing better photocatalysts is another challenge. These materials must be highly selective and durable so they can perform under harsh chemical conditions without losing efficiency. Current systems can degrade over time, limiting long-term use. “There is still a gap between laboratory success and real-world application,” Prof Duan said. “We need more robust catalysts and better system designs to ensure the technology is both efficient and economically viable at scale.” Scaling Up and Future Directions Separating the final products also remains difficult. The process often produces a mix of gases and liquids that require energy-intensive purification, which can reduce overall sustainability. To overcome these issues, researchers suggest a more integrated strategy that combines advances in catalyst design, reactor engineering, and system optimization. New ideas include continuous-flow reactors, systems that combine solar energy with heat or electricity, and improved monitoring to boost efficiency. The team also outlines a path toward scaling up the technology, with goals such as higher energy efficiency and continuous industrial operation in the years ahead. “This is an exciting and rapidly evolving field,” Ms Lu said. “With continued innovation, we believe solar-powered plastic-to-fuel technologies could play a key role in building a sustainable, low-carbon future.” Reference: “Opportunities and challenges in sustainable solar fuel production from plastics” by Xiao Lu, Wenjie Tian and Xiaoguang Duan, 28 April 2026, Chem Catalysis. DOI: 10.1016/j.checat.2026.101746 Funding: Australian Research Council Never miss a breakthrough: Join the SciTechDaily newsletter. Follow us on Google and Google News.

سائنسدانوں کی سورج کی روشنی سے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ایندھن میں تبدیل کرنے کی بڑی کامیابی


Full translate

سائنسدانوں نے سورج کی روشنی سے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ایندھن میں تبدیل کرنے میں اہم کامیابی حاصل کر لی

پلاسٹک کی بوتلیں اور سورج کی روشنی
پلاسٹک، جو کاربن اور ہائیڈروجن سے بھرپور ہوتے ہیں، سورج کی روشنی کے ذریعے صاف توانائی میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
کریڈٹ: یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ

سائنسدان ایک ایسے طریقے پر تحقیق کر رہے ہیں جس کے ذریعے سورج کی روشنی استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک کے فضلے کو ایندھن اور قیمتی کیمیائی مادّوں میں بدلا جا سکے۔ یہ طریقہ آلودگی اور توانائی دونوں مسائل کا حل بن سکتا ہے۔

سائنسدان دنیا کے دو بڑے مسائل، یعنی پلاسٹک آلودگی اور صاف توانائی، کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ سورج کی روشنی سے استعمال شدہ پلاسٹک کو مفید ایندھن میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کی پی ایچ ڈی طالبہ ژیاؤ لو کی سربراہی میں کی گئی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والے نظام پلاسٹک کے کچرے کو ہائیڈروجن، سنگیس (Syngas) اور دیگر صنعتی کیمیکلز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ ایک پائیدار اور سرکلر معیشت کی طرف اہم قدم ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 50 کروڑ ٹن سے زیادہ پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے، جن میں سے لاکھوں ٹن ماحول میں جا کر آلودگی پھیلاتے ہیں۔ دوسری طرف فوسل فیول کے استعمال میں کمی کے دباؤ نے صاف توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کو تیز کر دیا ہے۔

یہ تحقیق، جو کیم کیٹالسس جریدے میں شائع ہوئی، ظاہر کرتی ہے کہ کاربن اور ہائیڈروجن سے بھرپور پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھنے کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ سمجھا جا سکتا ہے۔

ژیاؤ لو نے کہا:
“پلاسٹک کو اکثر ماحولیاتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ ایک بڑا موقع بھی ہے۔ اگر ہم سورج کی روشنی کے ذریعے فضلہ پلاسٹک کو مؤثر انداز میں صاف ایندھن میں بدل سکیں تو ہم ایک ساتھ آلودگی اور توانائی دونوں مسائل حل کر سکتے ہیں۔”

سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے کا طریقہ

اس طریقے کو سولر ڈرِوَن فوٹو ریفارمنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں روشنی سے متحرک ہونے والے خاص مادّے، جنہیں فوٹو کیٹالسٹ کہا جاتا ہے، پلاسٹک کو نسبتاً کم درجہ حرارت پر توڑتے ہیں۔

اس عمل سے ہائیڈروجن پیدا کی جا سکتی ہے، جو ایک صاف ایندھن ہے اور استعمال کے وقت آلودگی پیدا نہیں کرتی۔ اس کے ساتھ دیگر مفید صنعتی کیمیکلز بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

عام طریقے سے پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن بنانے کے مقابلے میں یہ طریقہ کم توانائی استعمال کرتا ہے، کیونکہ پلاسٹک کو آکسیڈائز کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہی فائدہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے زیادہ عملی بنا سکتا ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے ہائیڈروجن کی اچھی پیداوار حاصل کی ہے، ساتھ ہی ایسیٹک ایسڈ اور ڈیزل جیسی ہائیڈروکاربن مصنوعات بھی بنائی گئی ہیں۔ کچھ نظام 100 گھنٹوں سے زیادہ مسلسل چلتے رہے، جس سے ان کی بہتر کارکردگی اور استحکام ظاہر ہوا۔

تکنیکی مشکلات اور رکاوٹیں

ان کامیابیوں کے باوجود اس ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال سے پہلے کئی مشکلات موجود ہیں۔

پروفیسر ژیاؤگوانگ دوان نے کہا:
“سب سے بڑی رکاوٹ خود پلاسٹک کے کچرے کی پیچیدگی ہے۔ مختلف قسم کے پلاسٹک تبدیلی کے عمل میں مختلف رویہ دکھاتے ہیں، جبکہ رنگ، ڈائی اور دوسرے اضافی مادّے اس عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے مؤثر چھانٹی اور پہلے سے صفائی ضروری ہے تاکہ بہتر کارکردگی اور معیاری مصنوعات حاصل کی جا سکیں۔”

بہتر فوٹو کیٹالسٹ تیار کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان مادّوں کو مضبوط اور مؤثر ہونا چاہیے تاکہ وہ سخت کیمیائی حالات میں بھی کارکردگی برقرار رکھ سکیں۔ موجودہ نظام وقت کے ساتھ خراب ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا طویل مدتی استعمال محدود ہو جاتا ہے۔

پروفیسر دوان نے مزید کہا:
“لیبارٹری کی کامیابی اور حقیقی دنیا میں استعمال کے درمیان اب بھی فرق موجود ہے۔ ہمیں زیادہ مضبوط کیٹالسٹ اور بہتر نظام درکار ہیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی مؤثر اور معاشی طور پر قابلِ عمل بن سکے۔”

بڑے پیمانے پر استعمال اور مستقبل

آخری مصنوعات کو الگ کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس عمل سے اکثر گیسوں اور مائعات کا مرکب بنتا ہے جسے صاف کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، اور اس سے مجموعی پائیداری متاثر ہو سکتی ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے محققین نے ایک مربوط حکمتِ عملی تجویز کی ہے، جس میں کیٹالسٹ ڈیزائن، ری ایکٹر انجینئرنگ اور نظام کی بہتری شامل ہے۔

نئے خیالات میں مسلسل بہاؤ والے ری ایکٹر، سورج کی توانائی کو حرارت یا بجلی کے ساتھ ملانے والے نظام، اور جدید نگرانی کے طریقے شامل ہیں تاکہ کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔

تحقیقی ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے تک پہنچانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس میں زیادہ توانائی کی کارکردگی اور مسلسل صنعتی آپریشن کے اہداف شامل ہیں۔

ژیاؤ لو نے کہا:
“یہ ایک دلچسپ اور تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ مسلسل جدت کے ذریعے ہمیں یقین ہے کہ سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے والی ٹیکنالوجی ایک پائیدار اور کم کاربن مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔”

حوالہ:
“پلاسٹک سے پائیدار شمسی ایندھن کی پیداوار میں مواقع اور چیلنجز”
مصنفین: ژیاؤ لو، وینجی تیان، ژیاؤگوانگ دوان
اشاعت: 28 اپریل 2026، کیم کیٹالسس
DOI: 10.1016/j.checat.2026.101746

فنڈنگ: آسٹریلین ریسرچ کونسل


Main topic Ki khani bna t

ایک وقت کی بات ہے، دنیا پلاسٹک کے کچرے سے بھر چکی تھی۔ سمندر، دریا اور سڑکیں پلاسٹک کی بوتلوں اور تھیلیوں سے آلودہ ہو رہی تھیں۔ لوگ پریشان تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے۔

اسی دوران ایک نوجوان سائنسدان ژیاؤ لو نے سوچا:
“اگر سورج پودوں کو توانائی دے سکتا ہے، تو کیا وہ پلاسٹک کو بھی کسی مفید چیز میں بدل سکتا ہے؟”

اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کئی تجربات شروع کیے۔ انہوں نے خاص کیمیائی مادّے بنائے جو سورج کی روشنی پڑنے پر پلاسٹک کو توڑ سکتے تھے۔ ابتدا میں تجربات ناکام ہوئے، کبھی مشین خراب ہو جاتی اور کبھی صرف دھواں نکلتا۔

لیکن ایک دن حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ پرانی پلاسٹک بوتلوں سے صاف ہائیڈروجن گیس بننے لگی، جو ایک صاف ایندھن تھی۔ ساتھ ہی کچھ مفید صنعتی کیمیکل بھی حاصل ہوئے۔

سائنسدان خوش ہو گئے۔ اب وہ سمجھ چکے تھے کہ پلاسٹک صرف کچرا نہیں بلکہ توانائی کا خزانہ بھی بن سکتا ہے۔

وقت کے ساتھ اس نئی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا گیا۔ مستقبل میں شہروں میں ایسی مشینیں لگنے لگیں جو سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلتی تھیں۔ سڑکیں صاف ہونے لگیں، آلودگی کم ہوئی، اور لوگ صاف توانائی استعمال کرنے لگے۔

یوں سورج کی روشنی نے دنیا کو پلاسٹک کے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔


Her paragrah Ki heading.likho

دنیا پلاسٹک سے بھر گئی

ایک وقت کی بات ہے، دنیا پلاسٹک کے کچرے سے بھر چکی تھی۔ سمندر، دریا اور سڑکیں پلاسٹک کی بوتلوں اور تھیلیوں سے آلودہ ہو رہی تھیں۔ لوگ پریشان تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے۔

نوجوان سائنسدان کا خیال

اسی دوران ایک نوجوان سائنسدان ژیاؤ لو نے سوچا:
“اگر سورج پودوں کو توانائی دے سکتا ہے، تو کیا وہ پلاسٹک کو بھی کسی مفید چیز میں بدل سکتا ہے؟”

سائنسی تجربات کا آغاز

اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کئی تجربات شروع کیے۔ انہوں نے خاص کیمیائی مادّے بنائے جو سورج کی روشنی پڑنے پر پلاسٹک کو توڑ سکتے تھے۔ ابتدا میں تجربات ناکام ہوئے، کبھی مشین خراب ہو جاتی اور کبھی صرف دھواں نکلتا۔

بڑی کامیابی

لیکن ایک دن حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ پرانی پلاسٹک بوتلوں سے صاف ہائیڈروجن گیس بننے لگی، جو ایک صاف ایندھن تھی۔ ساتھ ہی کچھ مفید صنعتی کیمیکل بھی حاصل ہوئے۔

پلاسٹک بنا توانائی کا خزانہ

سائنسدان خوش ہو گئے۔ اب وہ سمجھ چکے تھے کہ پلاسٹک صرف کچرا نہیں بلکہ توانائی کا خزانہ بھی بن سکتا ہے۔

مستقبل کی نئی دنیا

وقت کے ساتھ اس نئی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا گیا۔ مستقبل میں شہروں میں ایسی مشینیں لگنے لگیں جو سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلتی تھیں۔ سڑکیں صاف ہونے لگیں، آلودگی کم ہوئی، اور لوگ صاف توانائی استعمال کرنے لگے۔

سورج کی روشنی نے دنیا بدل دی

یوں سورج کی روشنی نے دنیا کو پلاسٹک کے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔


Heading Kay neachy notes likho

دنیا پلاسٹک سے بھر گئی

  • پلاسٹک آلودگی دنیا کا بڑا مسئلہ بن گئی۔

  • سمندر، دریا اور سڑکیں کچرے سے بھر گئیں۔

  • لوگ اس مسئلے کے حل کی تلاش میں تھے۔

نوجوان سائنسدان کا خیال

  • ژیاؤ لو نے نیا خیال پیش کیا۔

  • اس نے سوچا سورج کی روشنی پلاسٹک کو مفید چیز میں بدل سکتی ہے۔

  • مقصد آلودگی اور توانائی دونوں مسائل حل کرنا تھا۔

سائنسی تجربات کا آغاز

  • سائنسدانوں نے مختلف تجربات کیے۔

  • خاص کیمیائی مادّے استعمال کیے گئے۔

  • ابتدا میں کئی تجربات ناکام ہوئے۔

بڑی کامیابی

  • پلاسٹک سے ہائیڈروجن گیس بنائی گئی۔

  • مفید صنعتی کیمیکل بھی حاصل ہوئے۔

  • یہ صاف اور ماحول دوست ایندھن ثابت ہوا۔

پلاسٹک بنا توانائی کا خزانہ

  • سائنسدانوں نے پلاسٹک کو قیمتی وسیلہ قرار دیا۔

  • پلاسٹک کو دوبارہ استعمال کرنے کا نیا طریقہ ملا۔

  • اس سے ماحول اور توانائی دونوں کو فائدہ ہوا۔

مستقبل کی نئی دنیا

  • نئی مشینیں پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے لگیں۔

  • شہروں میں صفائی بہتر ہونے لگی۔

  • صاف توانائی کا استعمال بڑھ گیا۔

سورج کی روشنی نے دنیا بدل دی

  • سورج کی طاقت نے نئی امید پیدا کی۔

  • پلاسٹک آلودگی کم ہونے لگی۔

  • دنیا پائیدار اور صاف مستقبل کی طرف بڑھنے لگی۔


Sequence formula use kero 2 Ka jazar find kero

2 کا جذر (√2) نکالنے کے لیے ایک مشہور سیکوئنس فارمولا استعمال ہوتا ہے:

xn+1=12(xn+2xn)

یہ فارمولا بار بار استعمال کرنے سے جواب √2 کے قریب آتا جاتا ہے۔

مثال:

  • ابتدائی قیمت لیں:
    x1=1

  • اگلا مرحلہ:
    x2=12(1+21)=1.5

  • پھر:
    x3=12(1.5+21.5)1.4167

  • پھر:
    x41.4142

اس طرح:

21.4142

Main topic likho Urdu kero Scientists Make Breakthrough in Turning Plastic Trash Into Clean Fuel Using Sunlight Plastic Bottle Sunlight Plastics – rich in carbon and hydrogen – can be converted into a clean energy source, using sunlight. Credit: Adelaide University Scientists are exploring a method to convert plastic waste into fuels and valuable chemicals using sunlight, potentially addressing both pollution and energy challenges. Scientists are developing a potential solution to two major global problems, plastic pollution and clean energy, by using sunlight to turn discarded plastics into useful fuels. A new study led by University of Adelaide PhD candidate Xiao Lu examines how solar-powered systems can convert plastic waste into hydrogen, syngas, and other industrial chemicals. This approach could support the transition to a more sustainable, circular economy. Worldwide, more than 500 million tons of plastic are produced each year, and millions of tons end up in the environment. At the same time, growing pressure to cut fossil fuel use has intensified the search for cleaner energy alternatives. The study, published in Chem Catalysis, shows that plastics, which are rich in carbon and hydrogen, could be treated as a valuable resource rather than simply waste. “Plastic is often seen as a major environmental problem, but it also represents a significant opportunity,” said Ms Lu. “If we can efficiently convert waste plastics into clean fuels using sunlight, we can address pollution and energy challenges at the same time.” How Solar-Driven Photoreforming Works This method, called solar-driven photoreforming, relies on light-sensitive materials known as photocatalysts to break down plastics at relatively low temperatures. The process can generate hydrogen, a clean fuel that produces no emissions at the point of use, along with other useful industrial chemicals. Plastic Waste Garbage Plastic waste is a growing environmental problem as production continues to rise and recycling remains limited. Durable plastics persist for decades, breaking down into microplastics that spread through ecosystems and food systems, posing risks to both environmental and human health. Credit: Stock Compared with conventional hydrogen production through water splitting, this approach requires less energy because plastics are easier to oxidize. That advantage could make it more practical for large-scale use. Recent research has reported strong performance, according to senior author Professor Xiaoguang Duan from the School of Chemical Engineering at the University of Adelaide. Scientists have achieved high hydrogen output along with the production of acetic acid and diesel-range hydrocarbons. Some systems have operated continuously for more than 100 hours, showing improving stability and efficiency. Technical Challenges and Limitations Despite these advances, several obstacles remain before the technology can be widely used. “One major hurdle is the complexity of plastic waste itself,” Prof Duan said. “Different types of plastics behave differently during conversion, and additives such as dyes and stabilizers can interfere with the process. Efficient sorting and pre-treatment are therefore essential to maximize performance and product quality.” Designing better photocatalysts is another challenge. These materials must be highly selective and durable so they can perform under harsh chemical conditions without losing efficiency. Current systems can degrade over time, limiting long-term use. “There is still a gap between laboratory success and real-world application,” Prof Duan said. “We need more robust catalysts and better system designs to ensure the technology is both efficient and economically viable at scale.” Scaling Up and Future Directions Separating the final products also remains difficult. The process often produces a mix of gases and liquids that require energy-intensive purification, which can reduce overall sustainability. To overcome these issues, researchers suggest a more integrated strategy that combines advances in catalyst design, reactor engineering, and system optimization. New ideas include continuous-flow reactors, systems that combine solar energy with heat or electricity, and improved monitoring to boost efficiency. The team also outlines a path toward scaling up the technology, with goals such as higher energy efficiency and continuous industrial operation in the years ahead. “This is an exciting and rapidly evolving field,” Ms Lu said. “With continued innovation, we believe solar-powered plastic-to-fuel technologies could play a key role in building a sustainable, low-carbon future.” Reference: “Opportunities and challenges in sustainable solar fuel production from plastics” by Xiao Lu, Wenjie Tian and Xiaoguang Duan, 28 April 2026, Chem Catalysis. DOI: 10.1016/j.checat.2026.101746 Funding: Australian Research Council Never miss a breakthrough: Join the SciTechDaily newsletter. Follow us on Google and Google News.

سائنسدانوں کی سورج کی روشنی سے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ایندھن میں تبدیل کرنے کی بڑی کامیابی


Full translate

سائنسدانوں نے سورج کی روشنی سے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ایندھن میں تبدیل کرنے میں اہم کامیابی حاصل کر لی

پلاسٹک کی بوتلیں اور سورج کی روشنی
پلاسٹک، جو کاربن اور ہائیڈروجن سے بھرپور ہوتے ہیں، سورج کی روشنی کے ذریعے صاف توانائی میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
کریڈٹ: یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ

سائنسدان ایک ایسے طریقے پر تحقیق کر رہے ہیں جس کے ذریعے سورج کی روشنی استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک کے فضلے کو ایندھن اور قیمتی کیمیائی مادّوں میں بدلا جا سکے۔ یہ طریقہ آلودگی اور توانائی دونوں مسائل کا حل بن سکتا ہے۔

سائنسدان دنیا کے دو بڑے مسائل، یعنی پلاسٹک آلودگی اور صاف توانائی، کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ سورج کی روشنی سے استعمال شدہ پلاسٹک کو مفید ایندھن میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کی پی ایچ ڈی طالبہ ژیاؤ لو کی سربراہی میں کی گئی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والے نظام پلاسٹک کے کچرے کو ہائیڈروجن، سنگیس (Syngas) اور دیگر صنعتی کیمیکلز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ ایک پائیدار اور سرکلر معیشت کی طرف اہم قدم ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 50 کروڑ ٹن سے زیادہ پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے، جن میں سے لاکھوں ٹن ماحول میں جا کر آلودگی پھیلاتے ہیں۔ دوسری طرف فوسل فیول کے استعمال میں کمی کے دباؤ نے صاف توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کو تیز کر دیا ہے۔

یہ تحقیق، جو کیم کیٹالسس جریدے میں شائع ہوئی، ظاہر کرتی ہے کہ کاربن اور ہائیڈروجن سے بھرپور پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھنے کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ سمجھا جا سکتا ہے۔

ژیاؤ لو نے کہا:
“پلاسٹک کو اکثر ماحولیاتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ ایک بڑا موقع بھی ہے۔ اگر ہم سورج کی روشنی کے ذریعے فضلہ پلاسٹک کو مؤثر انداز میں صاف ایندھن میں بدل سکیں تو ہم ایک ساتھ آلودگی اور توانائی دونوں مسائل حل کر سکتے ہیں۔”

سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے کا طریقہ

اس طریقے کو سولر ڈرِوَن فوٹو ریفارمنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں روشنی سے متحرک ہونے والے خاص مادّے، جنہیں فوٹو کیٹالسٹ کہا جاتا ہے، پلاسٹک کو نسبتاً کم درجہ حرارت پر توڑتے ہیں۔

اس عمل سے ہائیڈروجن پیدا کی جا سکتی ہے، جو ایک صاف ایندھن ہے اور استعمال کے وقت آلودگی پیدا نہیں کرتی۔ اس کے ساتھ دیگر مفید صنعتی کیمیکلز بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

عام طریقے سے پانی کو توڑ کر ہائیڈروجن بنانے کے مقابلے میں یہ طریقہ کم توانائی استعمال کرتا ہے، کیونکہ پلاسٹک کو آکسیڈائز کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہی فائدہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے زیادہ عملی بنا سکتا ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے ہائیڈروجن کی اچھی پیداوار حاصل کی ہے، ساتھ ہی ایسیٹک ایسڈ اور ڈیزل جیسی ہائیڈروکاربن مصنوعات بھی بنائی گئی ہیں۔ کچھ نظام 100 گھنٹوں سے زیادہ مسلسل چلتے رہے، جس سے ان کی بہتر کارکردگی اور استحکام ظاہر ہوا۔

تکنیکی مشکلات اور رکاوٹیں

ان کامیابیوں کے باوجود اس ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال سے پہلے کئی مشکلات موجود ہیں۔

پروفیسر ژیاؤگوانگ دوان نے کہا:
“سب سے بڑی رکاوٹ خود پلاسٹک کے کچرے کی پیچیدگی ہے۔ مختلف قسم کے پلاسٹک تبدیلی کے عمل میں مختلف رویہ دکھاتے ہیں، جبکہ رنگ، ڈائی اور دوسرے اضافی مادّے اس عمل میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے مؤثر چھانٹی اور پہلے سے صفائی ضروری ہے تاکہ بہتر کارکردگی اور معیاری مصنوعات حاصل کی جا سکیں۔”

بہتر فوٹو کیٹالسٹ تیار کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان مادّوں کو مضبوط اور مؤثر ہونا چاہیے تاکہ وہ سخت کیمیائی حالات میں بھی کارکردگی برقرار رکھ سکیں۔ موجودہ نظام وقت کے ساتھ خراب ہو جاتے ہیں، جس سے ان کا طویل مدتی استعمال محدود ہو جاتا ہے۔

پروفیسر دوان نے مزید کہا:
“لیبارٹری کی کامیابی اور حقیقی دنیا میں استعمال کے درمیان اب بھی فرق موجود ہے۔ ہمیں زیادہ مضبوط کیٹالسٹ اور بہتر نظام درکار ہیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی مؤثر اور معاشی طور پر قابلِ عمل بن سکے۔”

بڑے پیمانے پر استعمال اور مستقبل

آخری مصنوعات کو الگ کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس عمل سے اکثر گیسوں اور مائعات کا مرکب بنتا ہے جسے صاف کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، اور اس سے مجموعی پائیداری متاثر ہو سکتی ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے محققین نے ایک مربوط حکمتِ عملی تجویز کی ہے، جس میں کیٹالسٹ ڈیزائن، ری ایکٹر انجینئرنگ اور نظام کی بہتری شامل ہے۔

نئے خیالات میں مسلسل بہاؤ والے ری ایکٹر، سورج کی توانائی کو حرارت یا بجلی کے ساتھ ملانے والے نظام، اور جدید نگرانی کے طریقے شامل ہیں تاکہ کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔

تحقیقی ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے تک پہنچانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس میں زیادہ توانائی کی کارکردگی اور مسلسل صنعتی آپریشن کے اہداف شامل ہیں۔

ژیاؤ لو نے کہا:
“یہ ایک دلچسپ اور تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے۔ مسلسل جدت کے ذریعے ہمیں یقین ہے کہ سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے والی ٹیکنالوجی ایک پائیدار اور کم کاربن مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔”

حوالہ:
“پلاسٹک سے پائیدار شمسی ایندھن کی پیداوار میں مواقع اور چیلنجز”
مصنفین: ژیاؤ لو، وینجی تیان، ژیاؤگوانگ دوان
اشاعت: 28 اپریل 2026، کیم کیٹالسس
DOI: 10.1016/j.checat.2026.101746

فنڈنگ: آسٹریلین ریسرچ کونسل


Main topic Ki khani bna t

ایک وقت کی بات ہے، دنیا پلاسٹک کے کچرے سے بھر چکی تھی۔ سمندر، دریا اور سڑکیں پلاسٹک کی بوتلوں اور تھیلیوں سے آلودہ ہو رہی تھیں۔ لوگ پریشان تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے۔

اسی دوران ایک نوجوان سائنسدان ژیاؤ لو نے سوچا:
“اگر سورج پودوں کو توانائی دے سکتا ہے، تو کیا وہ پلاسٹک کو بھی کسی مفید چیز میں بدل سکتا ہے؟”

اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کئی تجربات شروع کیے۔ انہوں نے خاص کیمیائی مادّے بنائے جو سورج کی روشنی پڑنے پر پلاسٹک کو توڑ سکتے تھے۔ ابتدا میں تجربات ناکام ہوئے، کبھی مشین خراب ہو جاتی اور کبھی صرف دھواں نکلتا۔

لیکن ایک دن حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ پرانی پلاسٹک بوتلوں سے صاف ہائیڈروجن گیس بننے لگی، جو ایک صاف ایندھن تھی۔ ساتھ ہی کچھ مفید صنعتی کیمیکل بھی حاصل ہوئے۔

سائنسدان خوش ہو گئے۔ اب وہ سمجھ چکے تھے کہ پلاسٹک صرف کچرا نہیں بلکہ توانائی کا خزانہ بھی بن سکتا ہے۔

وقت کے ساتھ اس نئی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا گیا۔ مستقبل میں شہروں میں ایسی مشینیں لگنے لگیں جو سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلتی تھیں۔ سڑکیں صاف ہونے لگیں، آلودگی کم ہوئی، اور لوگ صاف توانائی استعمال کرنے لگے۔

یوں سورج کی روشنی نے دنیا کو پلاسٹک کے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔


Her paragrah Ki heading.likho

دنیا پلاسٹک سے بھر گئی

ایک وقت کی بات ہے، دنیا پلاسٹک کے کچرے سے بھر چکی تھی۔ سمندر، دریا اور سڑکیں پلاسٹک کی بوتلوں اور تھیلیوں سے آلودہ ہو رہی تھیں۔ لوگ پریشان تھے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے۔

نوجوان سائنسدان کا خیال

اسی دوران ایک نوجوان سائنسدان ژیاؤ لو نے سوچا:
“اگر سورج پودوں کو توانائی دے سکتا ہے، تو کیا وہ پلاسٹک کو بھی کسی مفید چیز میں بدل سکتا ہے؟”

سائنسی تجربات کا آغاز

اس نے اپنی ٹیم کے ساتھ کئی تجربات شروع کیے۔ انہوں نے خاص کیمیائی مادّے بنائے جو سورج کی روشنی پڑنے پر پلاسٹک کو توڑ سکتے تھے۔ ابتدا میں تجربات ناکام ہوئے، کبھی مشین خراب ہو جاتی اور کبھی صرف دھواں نکلتا۔

بڑی کامیابی

لیکن ایک دن حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ پرانی پلاسٹک بوتلوں سے صاف ہائیڈروجن گیس بننے لگی، جو ایک صاف ایندھن تھی۔ ساتھ ہی کچھ مفید صنعتی کیمیکل بھی حاصل ہوئے۔

پلاسٹک بنا توانائی کا خزانہ

سائنسدان خوش ہو گئے۔ اب وہ سمجھ چکے تھے کہ پلاسٹک صرف کچرا نہیں بلکہ توانائی کا خزانہ بھی بن سکتا ہے۔

مستقبل کی نئی دنیا

وقت کے ساتھ اس نئی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا گیا۔ مستقبل میں شہروں میں ایسی مشینیں لگنے لگیں جو سورج کی روشنی سے پلاسٹک کو ایندھن میں بدلتی تھیں۔ سڑکیں صاف ہونے لگیں، آلودگی کم ہوئی، اور لوگ صاف توانائی استعمال کرنے لگے۔

سورج کی روشنی نے دنیا بدل دی

یوں سورج کی روشنی نے دنیا کو پلاسٹک کے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔


Heading Kay neachy notes likho

دنیا پلاسٹک سے بھر گئی

  • پلاسٹک آلودگی دنیا کا بڑا مسئلہ بن گئی۔

  • سمندر، دریا اور سڑکیں کچرے سے بھر گئیں۔

  • لوگ اس مسئلے کے حل کی تلاش میں تھے۔

نوجوان سائنسدان کا خیال

  • ژیاؤ لو نے نیا خیال پیش کیا۔

  • اس نے سوچا سورج کی روشنی پلاسٹک کو مفید چیز میں بدل سکتی ہے۔

  • مقصد آلودگی اور توانائی دونوں مسائل حل کرنا تھا۔

سائنسی تجربات کا آغاز

  • سائنسدانوں نے مختلف تجربات کیے۔

  • خاص کیمیائی مادّے استعمال کیے گئے۔

  • ابتدا میں کئی تجربات ناکام ہوئے۔

بڑی کامیابی

  • پلاسٹک سے ہائیڈروجن گیس بنائی گئی۔

  • مفید صنعتی کیمیکل بھی حاصل ہوئے۔

  • یہ صاف اور ماحول دوست ایندھن ثابت ہوا۔

پلاسٹک بنا توانائی کا خزانہ

  • سائنسدانوں نے پلاسٹک کو قیمتی وسیلہ قرار دیا۔

  • پلاسٹک کو دوبارہ استعمال کرنے کا نیا طریقہ ملا۔

  • اس سے ماحول اور توانائی دونوں کو فائدہ ہوا۔

مستقبل کی نئی دنیا

  • نئی مشینیں پلاسٹک کو ایندھن میں بدلنے لگیں۔

  • شہروں میں صفائی بہتر ہونے لگی۔

  • صاف توانائی کا استعمال بڑھ گیا۔

سورج کی روشنی نے دنیا بدل دی

  • سورج کی طاقت نے نئی امید پیدا کی۔

  • پلاسٹک آلودگی کم ہونے لگی۔

  • دنیا پائیدار اور صاف مستقبل کی طرف بڑھنے لگی۔


Sequence formula use kero 2 Ka jazar find kero

2 کا جذر (√2) نکالنے کے لیے ایک مشہور سیکوئنس فارمولا استعمال ہوتا ہے:

xn+1=12(xn+2xn)

یہ فارمولا بار بار استعمال کرنے سے جواب √2 کے قریب آتا جاتا ہے۔

مثال:

  • ابتدائی قیمت لیں:
    x1=1

  • اگلا مرحلہ:
    x2=12(1+21)=1.5

  • پھر:
    x3=12(1.5+21.5)1.4167

  • پھر:
    x41.4142

اس طرح:

21.4142

یہی 2 کا جذر ہے۔


Vedic Math Kay formula say

ویَدِک میتھ میں 2 کا جذر (√2) نکالنے کے لیے اندازاً ایک تیز طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔

چونکہ:

12=1اور22=4

اس لیے √2 کی قیمت 1 اور 2 کے درمیان ہوگی۔

اب ویدک انداز میں قریب ترین جواب نکالتے ہیں:

1.4×1.4=1.96

یہ 2 کے بہت قریب ہے، اس لیے جواب تقریباً 1.4 ہوگا۔

مزید درستگی کے لیے:

1.414×1.4141.999

لہٰذا:

21.414

یہ ویدک میتھ میں تیز ذہنی اندازہ لگانے کا طریقہ ہے۔


Newton method

نیوٹن میتھڈ سے √2 نکالنے کا فارمولا یہ ہے:

xn+1=12(xn+2xn)

مرحلہ 1

ابتدائی اندازہ لیں:

x1=1

مرحلہ 2

فارمولے میں رکھیں:

x2=12(1+21)x2=12(3)=1.5

مرحلہ 3

x3=12(1.5+21.5)x3=12(1.5+1.3333)x3=1.4167

مرحلہ 4

x4=12(1.4167+21.4167)x41.4142

آخری جواب

21.4142

0 comments:

Post a Comment

 
Back to top!